لاہور، 19 دسمبر (اے پی پی): ماڈرن پنجاب میں گورننس کے نظام کو مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ آ گیا ہے۔ پنجاب میں پہلی بار سرکاری اداروں کی کارکردگی جانچنے کے لیے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ قائم کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے صوبے کے ہر شہر، ہر ادارے اور ہر افسر کی کارکردگی کی براہ راست اور مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ ان اقدامات سے متعلق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چیئرمین سی ایم کمپلینٹ سیل شعیب مرزا نے پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ اور ورچوئل مانیٹرنگ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں ماڈرن پنجاب کے وژن کے تحت گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف محض سرکاری فائلوں پر انحصار کرنے کے بجائے رئیل ٹائم حقائق اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے صوبے بھر کی نگرانی خود کریں گی۔ وزیراعلیٰ ڈیش بورڈ کے ذریعے پنجاب کے تمام اضلاع میں جاری امور کی لائیو مانیٹرنگ کریں گی، جبکہ صوبے میں پہلی بار ورچوئل ٹور وال بھی قائم کی گئی ہے، جس کے ذریعے ہر ہسپتال، تعلیمی ادارے اور سرکاری دفتر کی صورتحال براہ راست دیکھی جا سکے گی۔ اس نظام کے تحت وزیراعلیٰ مریم نواز شریف ورچوئل ٹور کے ذریعے افسران اور اہلکاروں کی حاضری اور کارکردگی بھی چیک کریں گی۔ کھلے مین ہولز، تجاوزات، ابلتے نالے، مہنگائی، آوارہ کتوں، وال چاکنگ، ریڑھی بازاروں، پارکوں اور قبرستانوں کی صورتحال اب پنجاب حکومت کی نظر سے اوجھل نہیں رہے گی۔ پنجاب پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ میں 22 اہم کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی۔ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز کی کارکردگی جانچنے کے لیے پہلا کے پی آئی ڈیش بورڈ بھی فعال کر دیا گیا ہے، جس سے انتظامی امور میں بہتری اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ پرفارمنس مینجمنٹ یونٹ کے قیام سے آٹا، روٹی اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی تاکہ مہنگائی کے حوالے سے کسی قسم کی لاپروائی نہ ہو۔ اسی طرح آوارہ کتوں سے بچوں کے تحفظ کے لیے جاری مہم، وال چاکنگ پر پابندی، ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت صفائی کی صورتحال اور شہروں میں ڈرینج و سیوریج سسٹم کی نگرانی بھی براہ راست کی جائے گی۔ چھوٹے اور بڑے شہروں میں پارکوں، قبرستانوں اور ریڑھی بازاروں کی مجموعی صورتحال، اشیائے خورونوش کی دستیابی اور نرخ بھی کے پی آئیز کا حصہ ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر بھی سی ایم آئی ٹی کے یونٹس قائم کیے جائیں گے تاکہ مانیٹرنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکے۔











