لاہور، 10 دسمبر (اے پی پی): پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے جامع اور عملی اقدامات تیزی سے جاری ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر میں محکمہ جنگلات، ضلعی انتظامیہ اور پیرا فورس کی مشترکہ ٹیموں نے وسیع پیمانے پر اینٹی انکروچمنٹ آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس بڑے آپریشن کے دوران لال سوہانرا نیشنل پارک کی 800 ایکڑ قیمتی زمین 40 سال بعد قابضین سے واگزار کرالی گئی—جو صوبے کے ماحول، جنگلی حیات اور جنگلاتی نظام کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ اسی طرح 30 سال سے قابض مافیا سے 231 کنال 16 مرلہ سرکاری جنگلاتی اراضی بھی واپس لے لی گئی جس کی مالیت تقریباً 240 ملین روپے بتائی گئی ہے۔ آپریشن کے دوران غیر قانونی تعمیرات، کمرشل عمارتیں، پولٹری فارم اور تمام تجاوزات مکمل طور پر مسمار کر دی گئیں جبکہ قبضے کی نشاندہی کرنے والی باؤنڈری والز بھی ہٹا دی گئیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اس تاریخی کامیابی پر محکمہ جنگلات پنجاب کی پوری ٹیم کو شاندار کارکردگی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ:جنگلات کا تحفظ انسانی زندگی کا تحفظ ہے، اور قابض مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ لال سوہانرا پارک کی اراضی کی واگزاری نہ صرف جنگلی حیات کے قدرتی مسکن کی بحالی کا باعث بنے گی بلکہ پنجاب کے ماحول اور جنگلاتی نظام کو بھی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ محکمہ جنگلات کے مطابق جنگلات کی بحالی اور قبضہ شدہ زمینوں کی واگزاری حکومت پنجاب کی ٹاپ ترجیح ہے، اور یہ آپریشن پنجاب کی تمام جنگلاتی اراضی کی مکمل بازیابی تک جاری رہے گا۔ مزید برآں، پنجاب حکومت نے جنگلات کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی — جیو ٹیگنگ، میپنگ، ڈرون اور سیٹلائٹ مانیٹرنگ — متعارف کرائی، جس کے مؤثر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ چیچہ وطنی سمیت تاریخی جنگلات کے تحفظ پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جہاں 1913 میں لگایا گیا جنگل ایک قیمتی ماحولیاتی اثاثہ ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب کو سرسبز، محفوظ اور پائیدار صوبہ بنانے کے لیے شفاف اور مضبوط اقدامات جاری رہیں گے۔











