ملتان 19 دسمبر )اے پی پی):کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں نے ملتان میونسپل کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ شہر بھر کی سڑکوں کا جامع اور مکمل سروے کیا جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کن علاقوں اور کن اہم سڑکوں کی فوری تعمیر اور بحالی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سروے اس مقصد کے تحت کیا جائے کہ ملتان کے تمام علاقوں میں یکساں بنیادوں پر ترقیاتی کام ممکن بنائے جا سکیں اور کسی ایک علاقے کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
کمشنر عامر کریم خاں نے واضح کیا کہ کسی بھی سڑک کی تعمیر یا بحالی سے قبل تمام متعلقہ سروس ڈیپارٹمنٹس سے تحریری سرٹیفکیٹس حاصل کرنا لازم ہوگا، جن میں واسا، میپکو، پی ٹی سی ایل اور دیگر یوٹیلیٹی ادارے شامل ہیں۔ ان سرٹیفکیٹس کے ذریعے اس امر کی تصدیق کی جائے گی کہ متعلقہ سڑک کے نیچے تمام سروسز مکمل ہو چکی ہیں اور مستقبل میں کسی قسم کی کھدائی یا شفٹنگ درکار نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی غلط روایت بن چکی ہے کہ ایک محکمہ سڑک تعمیر کرتا ہے اور بعد ازاں کوئی دوسرا محکمہ آ کر اسی سڑک کو دوبارہ کھود دیتا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سرکاری وسائل کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری بارہا اس طرزِ عمل پر شکایات کر چکے ہیں اور یہ صورتحال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
کمشنر ملتان نے ہدایت کی کہ اگر کسی محکمے نے سرٹیفکیٹ دینے کے باوجود سڑک کو دوبارہ کھودا تو متعلقہ افسر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سروس ڈیپارٹمنٹ اپنے پی سی ون میں اس امر کی واضح شق شامل کرے کہ اگر کھدائی کی جائے گی تو سڑک کو اسی اصل حالت میں بحال کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہوگی، اور بحالی کا بوجھ کسی دوسرے ادارے پر نہیں ڈالا جائے گا۔کمشنر ملتان نے زور دیا کہ ایسی سروسز جن کے نتیجے میں شہری اذیت کا شکار ہوں، ان کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کھدائی کے فوراً بعد سڑک کی بحالی یقینی بنائی جائے اور ماضی میں جن سڑکوں پر بحالی کے کام مکمل نہیں کیے گئے، ان کا بھی جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف انکوائری کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کی سہولت کے لیے اربوں روپے خرچ کرتی ہے اور یہ رقم ناقص منصوبہ بندی یا محکموں کی باہمی عدم ہم آہنگی کی نذر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بلا وجہ پریشان کرنے والے عناصر کے خلاف مثال قائم کی جائے گی تاکہ آئندہ اس طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔











