پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر اہم سنگ میل عبور کیا، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

10

سیالکوٹ، 31 اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، جو گزشتہ 78 برسوں کے دوران سیاست دان حاصل نہیں کر سکے۔ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کی کامیابیوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی ہے، جبکہ بھارت کے ساتھ حالیہ معرکے میں پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دے کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔

 انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کے نتائج کے حوالے سے ابہام کی گنجائش موجود رہی، تاہم اس مرتبہ پاکستان کی فتح کے بارے میں کوئی شبہ نہیں، بھارتی فوجی اہلکاروں، اعلیٰ عسکری قیادت اور ذرائع ابلاغ نے بھی اس نتیجے کو تسلیم کیا جبکہ بھارتی قیادت کی جانب سے اس کے برعکس کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا۔وہ سیالکوٹ میں یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے کانووکیشن سے خطاب کر رہے تھے، جس کا انعقاد ایک مقامی مارکی میں کیا گیا۔

وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ کامیابی پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم اعزاز ہے اور اس سے عالمی سطح پر ملک کی سفارتی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف طویل جدوجہد میں افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں نے ملک کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اپنے خون سے وطن کی مٹی کو سیراب کیا۔

 انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں نے ملک کے دفاع اور امن کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ امریکی صدر نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازع کے دوران متعدد مرتبہ پاکستانی افواج کی جانب سے بھارتی طیارے مار گرائے جانے کا ذکر کیا اور اس حوالے سے 11 مرتبہ گفتگو کی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی سطح پر ملک کا مقام مزید مستحکم کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے خود انحصاری کی اہمیت ثابت کی ہے، جس میں پاکستانی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی دعاؤں اور حمایت کا بھی اہم کردار ہے۔

وفاقی وزیر نے دنیا بھر کے تقریباً ڈھائی ارب مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم دنیا کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی جاری سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے مکہ مکرمہ اور دوحہ میں ہونے والے دفاعی معاہدوں کو اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ ان سفارتی و دفاعی معاملات میں پاکستان کی نمائندگی کرنا ان کے لیے اور بالخصوص اہل سیالکوٹ کے لیے باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات مسلم ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی، تعاون اور باہمی اشتراک کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے تعلیمی نصاب میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو ملک کی سیاسی، آئینی اور تاریخی جدوجہد کے بارے میں محدود معلومات حاصل ہیں، جس کی بنیادی وجہ تعلیمی نظام میں موجود خامیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کا ذمہ دار نوجوانوں کو قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ماضی کی حکومتوں کی کوتاہیوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق قومی نصاب میں تبدیلیاں کیں اور تاریخ کے بعض اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا۔انہوں نے بالخصوص افغانستان میں امریکی قیادت میں لڑی جانے والی جنگ کے دوران نصاب میں کی جانے والی تبدیلیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں تاریخی واقعات کی ایسی تشریحات متعارف کروائی گئیں جن کا مقصد پاکستان کے قومی مفادات کے بجائے امریکی مفادات کا تحفظ تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے روسی افواج کے انخلا کے بعد امریکہ خطے سے چلا گیا، تاہم پاکستان کو اس جنگ کے سنگین نتائج بھگتنا پڑے، جن میں دہشت گردی کا پھیلاؤ بھی شامل ہے۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نوجوان نسل کو 1950ء کی دہائی میں پاکستان کی سیاسی صورتحال اور ملک کی آئینی ترقی کے مراحل کے بارے میں بھی زیادہ آگاہی حاصل نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 1950ء سے 1970ء کی دہائی تک ملکی تاریخ کے اہم حصوں کو دانستہ طور پر تعلیمی نصاب سے خارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی کے ایوان میں بھی متعدد مرتبہ اس مسئلے کی نشاندہی کر چکے ہیں، قومی نصاب کی درستگی حکومت کی ذمہ داری اور قوم کا قرض ہے جسے ادا کرنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر دفاع نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تحریک پاکستان، قیام پاکستان کے لیے انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد، قربانیوں اور ان تاریخی حالات کا مطالعہ کریں جن کے نتیجے میں پاکستان معرض وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو اپنے ملک کی تاریخ، سیاسی ارتقا اور آئینی سفر سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ قومی تشخص اور ملکی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔

انہوں نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صرف ڈگری حاصل کر لینا کسی فرد کی زندگی میں حقیقی قدر و قیمت پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ تعلیم انسان کی شخصیت کی تعمیر، کردار سازی اور فکری وسعت کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم انسان کو باصلاحیت بناتی، اس کی روح کو پاکیزہ کرتی اور اس کے ذہن کے نئے دریچے کھولتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم کے حقیقی مقاصد کو سمجھتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو ملک و قوم کی ترقی کے لیے بروئے کار لانا چاہیے۔