عدم اعتماد کا حصہ  بننے والے کرداروں کو قوم نا بھولے گی نا معاف کرے گی،وزیراعظم عمران خان  کا قوم سے خطاب

55

اسلام آباد۔31مارچ  (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے جمعرات کی شب ٹیلی ویژن پر قوم سے اپنے خطاب میں  کہا  کہ عدم اعتماد کا حصہ  بننے والے کرداروں کو قوم نا بھولے گی نا معاف کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاست میں ضرورت کی بجائے نظریئے کو مقدم رکھنا چاہیے، مولانا رومی کا قول ہے کہ ” انسان پر ہونے کے باوجود زمین پر رینگتا کیوں ہے”۔ وزیراعظم نے کہا کہ  پیسے کی پوجا کرنا سب سے بڑا شرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اﷲ نے ہمیں پر دیئے لیکن ہم پیسے اور خوف کے پجاری بن گئے ہیں۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ ماضی میں جنوبی کوریا کے ماہرین پاکستان سیکھنے آتے تھے، اﷲ نے ہمارے اندر بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقبال کے شاہین کا تصور انسان کی خود داری کو اجاگر کرتا ہے، وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو تندی باد مخالف کا سامنا کرتی ہیں، ہم نے سہل راستہ اپنا کر اپنی مشکلات میں اضافہ کیا۔ وزیراعظم نے ڈوٹوک طور پر کہا کہ خود کسی کے سامنے جھکوں گا نہ قوم کو جھکنے دوں گا، خود دداری کا مطلب کسی قوم کوبرا بھلا کہنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مشرقی و مغربی معاشروں کو بغور دیکھا ہے، نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا، ہم ہمیشہ سے دہشت گردی کے خلاف رہے ہیں، ہمیں امریکی جنگ کا حصے دار نہیں بننا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ 80 کی دہائی سے پاکستان امریکی جنگوں کا حصہ بنتا رہا، امریکی جنگ کی وجہ سے 80 ہزار پاکستانیوں کی جانیں قربان ہوئیں، پاکستان کا قبائلی علاقہ ملک کا سب سے پرامن علاقہ تھا، اندازہ نہیں کیا جا سکتا امریکی جنگ کی وجہ سے قبائلیوں پر کیا بیتی، سادہ لوح لوگوں کو بتایا گیا کہ سوویت یونین کے خلاف جنگ جہاد ہے، قبائلی عوام نے ملک کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، امریکی جنگ میں اتنی قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان کو کیا صلہ ملا؟۔ انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون حملوں میں کئی بے گناہ جانیں گئیں، میں ہمیشہ سے امریکی جنگ میں شریک ہونے کا مخالف رہا، میں نے امریکی جنگ کے خلاف مظاہروں میں بھرپور حصہ لیا، افغان جہاد ختم ہوتے ہی امریکہ نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دی تھیں، ہماری سابقہ حکومتیں امریکی جنگ میں شرکت کے جرم میں برابر کی شریک رہیں۔