کوئٹہ یکم جو لائی (اے پی پی): قائمقام اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل نے جے یو آئی کے صوبائی نائب امیر مولوی سرور موسیٰ خیل اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماوں کے ہمراہ کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ھوئے کہا کہ موسیٰ خیل آل پارٹیز کسی صورت نئی حلقہ بندی کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے موسیٰ خیل کی صوبائی اسمبلی کو بارکھان کے ضم کرنے کا فیصلہ قبول نہیں، فیصلے کے خلاف ہر سطع پر صدائے احتجاج بلند کی جائے گی 2002 کے الیکشن میں حلقہ بندیاں کی گئی تو شیرانی کو موسی خیل سے الگ کرنے کا مطالبہ اس وقت بھی کیا تھا موسیٰ خیل کی ایک لاکھ ستر ہزار کی آبادی کو صوبائی اسمبلی کی نشت سے محروم رکھنا زیادتی ہے موسیٰ خیل کی ثقافت بارکھان سے یکسر مختلف ہے پشتونخواہ۔اے این پی۔پی ٹی آئی سیمت تمام سیاسی جماعتوں کے اس پر تحفظات ہیں موسیٰ خیل قبائلی عوام اس فیصلے کو قبول نہیں کرتے پریس کانفرنس میں ساسی رہنماوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کے حوالے سے شفافیت اور ذمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر موسی خیل کی حلقہ بندی کرے بارکھان اور موسیٰ خیل ہسماندہ اضلاع ہیں فیصلے ہر نظر ثانی کی جائے دو ہزار آٹھ میں اس حلقے سے شیرانی کو الگ کیا گیا تھا تو یہ امید پیدا یوئی کہ موسیٰ خیل کی الگ نشت کو برقرار رکھا جائے گا آواران اور شیرانی کی آبادی کم ہونے کے باوجود ان اضلاع کو نمائندگی دی گئی وزیر اعظم اور چیف جسٹس اس حق تلفی کا نوٹس لیں موسیٰ خیل آل پارٹیز کے مطالبے کو سنا جائے اپنے عوام کے حقوق کیلئے کسی قربانی سے دریخ نہیں کرینگے الیکشن کمیشن نے غلط فیصلے کو کوئی جواز پیش نہیں کیا الیکش کمیش کے فیصلے کے خلاف دھرنے سیمت ہر آپشن پر غور ہوگا۔











