کراچی،29جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کو زندگی کے تمام شعبوں میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے بھرپور جدوجہد کر رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت رانا تنویر حسین نے جمعہ کو یہاں انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین (آئی بی سی سی)کے علاقائی دفتر کراچی کی نئی عمارت کے افتتاح کی تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اپنی خراب حکمرانی، معاشی بدانتظامی، آئین سے انحراف اور غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ملک کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان فاشسٹ اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں کیونکہ کوئی بھی محب وطن رہنما ملک اور قومی اداروں کے خلاف ایسے بیانات نہیں دے سکتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)اور اتحادیوں کی حکومت ماضی کے تمام غلط کاموں کو ختم کرنے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہے، مشکل حالات میں مسلم لیگ (ن)کی قیادت میں اتحادی حکومت نے ایک بہت بڑا اور مشکل چیلنج قبول کیا اور قوم کے بہترین مفاد میں سخت فیصلے بھی کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بقیہ ایک سال کی مدت میں مسائل کے حل اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، مخالف جماعتیں ایک سال مزید انتظار کریں کیونکہ عام انتخابات اپنے آئینی مدت کے مطابق ہوں گے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی قیادت میں اتحادی حکومت قومی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے اور تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد انٹرمیڈیٹ بورڈ میں اہم اصلاحات نافذ کی گئی ہیں اور ملک کے 30تعلیمی بورڈز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے اسلام آباد بورڈ کو رول ماڈل بنائیں۔ انہوں نے اعلی تعلیمی اداروں کے لیے قومی درجہ بندی کے نظام، اساتذہ کی تربیت اور معیار میں اضافے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اعلی تعلیم کے لیے فنڈز کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی اور بجٹ میں ایچ ای سی کے لیے 110ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ ماضی کی مختص کی گئی رقم سے کافی زیادہ ہے۔
رانا تنویر نے کہا کہ پچھلی حکومت کے متعارف کرائے گئے واحد قومی نصاب پر صوبوں کو کچھ تحفظات تھے اس لیے اس سلسلے میں اصلاحات کی گئیں اور کم از کم معیارات وضع کرتے ہوئے قومی نصاب متعارف کرایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت مشاورت اور ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور کریکولم کونسل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر قومی نصاب کا جائزہ لے تاکہ اسے دنیا بھر میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کے مطابق بہتر بنانے کا عمل جاری رہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ ایڈہاک ازم پر یقین نہیں رکھتے اورانتظامی اداروں اور تنظیموں کے سربراہوں کی تقرریاں کی جارہی ہیں، چیئرمین ایچ ای سی کی تقرری کے لیے سرچ کمیٹی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے کر سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔
قبل ازیں سیکرٹری آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں بتایا کہ آئی بی سی سی غیر ملکی تعلیمی قابلیت کے سرٹیفکیٹس کے لیے مساوی سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے کمیٹی کے پاس سینکڑوں سرٹیفکیٹس رجسٹرڈ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبا کی سہولت کے لیے ایکویلنس سرٹیفیکیشن کے پورے عمل کو آن لائن کر دیا گیا ہے اور 40فیصد سے زائد درخواستیں آن لائن جمع کرائی جا رہی ہیں جبکہ اس حوالے سے فیس ملک بھر کے تمام بینکوں کی کسی بھی برانچ میں جمع کرائی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر مختلف تعلیمی بورڈز کے پوزیشن ہولڈر طلبا کو شیلڈز بھی دیں۔اس موقع پر سندھ کے وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد اسماعیل راہو، صوبائی سیکریٹری یو اینڈ بی مرید را ہموں، منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فائونڈیشن راجہ مظہر حمید، سیکریٹری آئی بی سی سی ڈاکٹر غلام علی ملاح، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز، تعلیمی بورڈز کے چیئرمین اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے عہدیداران نے شرکت کی۔











