لاہور27 اگست(اے پی پی): اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے چیئرمین شعیب جاوید حسین نے کہا ہے کہ ا سٹیٹ لائف 65 فیصد مارکیٹ شیئر رکھنے والی ملک کی سب سے بڑی انشورنس کمپنی اور ہمارا صحت سلامت پلان دوسری کمپنیوں کے مقابلے میں 40 فیصد سستا ہے،فیلڈ ورکرز کی انتھک محنت سے اسٹیٹ لائف کارپوریشن ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں سیلزو مارکیٹنگ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں کراچی اور حیدرآباد ریجن کے سیلز و مارکیٹنگ افسران نے شرکت کی ۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شعیب جاوید حسین نے کہا کہ ا سٹیٹ لائف 140ملین پاکستانیوں کی لائف انشورنس کا احاطہ کرتی ہے، اسٹیٹ لائف نے نئی کاروباری فروخت میں 100 فیصد کامیابی حاصل کرلی ہے،2021ئ پالیسی ہولڈرز کو بہتر خدمات اور مصنوعات پیش کرنے کے علاوہ پریمیئم، کور ریونیو اور ایجنٹ کی تعداد میں اضافہ کا شاندار سال رہا ۔چیئرمین نے وضاحت کی کہ 85.6 بلین روپے کا اب تک کا سب سے زیادہ پالیسی ہولڈر بونس حاصل کرنے میں کامیاب رہے اور سال 2021 ء کے دوران اب تک کے سب سے زیادہ 98.3 بلین روپے کے انشورنس پالیسی کلیمز کی ادائیگی کی۔اسی طرح71.78 بلین روپے کے کل حجم کے ساتھ نئی کاروباری فروخت، جبکہ کل پریمیئم سیلز 2021 ء میں 161.79 بلین روپے رہی، جس میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔ شعیب جاوید حسین نے مزید کہا کہ اسٹیٹ لائف کے لیے نیا سٹرکچر لا رہے ہیں، صارفین کو بہتر سروسز دینے کیلئے سٹاف کو جدید خطوط پر ٹریننگ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صحت کے کاروبار میں 130 فیصد سے زیادہ اور گروپ و پنشن کے کاروبار میں 230 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے،یہ شاندار کارکردگی سٹیٹ لائف کے تمام پیشہ ورانہ عملے اور فیلڈ ورکرز کی لگن اور محنت کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک سال کے اندر ہم نے پالیسی ہولڈر کی دیکھ بھال اور خدمات کو مزید بڑھانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے سٹیٹ لائف کو مصنوعات اور ڈیجیٹل جدت سے چلنے والی ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی تنظیم میں تبدیل کر دیا ہے، ہماری مارکیٹنگ اور فیلڈ فورس کمپنی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے سیلز آفیسر کو رواں سال 25 ارب روپے کا ٹارگٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے،زندگی میں کامیابی کیلئے مثبت سوچ اپنانا بہت ضروری ہے۔ اس موقع پرانہوں نے سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے تمام ملازمین کو سیلاب زدگان کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز دینے کی اپیل بھی کی۔آخر میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران میں سرٹیفیکیٹس اور شیلڈز تقسیم کی گئیں۔











