کراچی۔26اکتوبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بحری امور نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تجارتی سہولت کاری کی پالیسی کو مزید بہتر بنائے اور لینڈ لاک ممالک کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کی نئی راہیں تلاش کرے۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت بدھ کو یہاں منعقد ہوا جس میں سینیٹرز نزہت صادق، مولا بخش چانڈیو، دوست محمد خان، دنیش کمار اور چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ محمد طارق ہدیٰ اور وزارت بحری امور اور کے پی ٹی کے افسران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ٹرانزٹ ٹریڈ کو فروغ دینے کے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ دیگر ممالک کے ساتھ بہتر روابط بندرگاہ کے کاروبار کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔کمیٹی کے ارکان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی آڑ میں اسمگلنگ یا غیر قانونی تجارتی طریقوں کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی سخت پالیسی وضع کرنے پر زور دیا۔ کمیٹی کی چیئرپرسن نے کراچی بندرگاہ سے پپری کے علاقے تک ایک خصوصی ریلوے فریٹ کوریڈور کے منصوبے کو سراہا اور کہا کہ اس سے نہ صرف بندرگاہ پر کنٹینر کلیئرنس کے کاموں میں تیزی آئے گی بلکہ سڑکوں پر بھاری ٹریفک کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ کمیٹی نے چیئرمین کے پی ٹی سے کہا کہ وہ بندرگاہ کے مستقبل کے منصوبوں سے متعلق جامع تجاویز پیش کریں‘ بندرگاہوں کی آلودگی ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے ترجیحی بنیادوں پرنمٹنا چاہیے‘چیئرمین کے پی ٹی نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کا 50 فیصد تجارتی کارگو کے پی ٹی میں ہینڈل کیا جاتا ہے جبکہ کل ٹیکس ریونیو کا 25 فیصد یعنی 60 کھرب روپے کے کل ٹیکس ریونیو میں سے 15 کھرب روپے کے پی ٹی کے توسط سے قومی خزانے میں جمع ہوتے ہیں۔ کے پی ٹی کے پاس 3کنٹینر ٹرمینلز پر 34ڈرائی کارگو برتھ اور آئل پیئرز پر 3برتھ ہیں جبکہ مستقبل کے لیے کافی جگہ دستیاب ہے۔ طارق ہدیٰ نے مزید کہا کہ کے پی ٹی کے پاس سب سے بڑے کارگو اور کنٹینر جہازوں کے ساتھ ساتھ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی ٹرانزٹ ٹریڈکے اضافی حجم ہینڈل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔











