لاہور ،19 جون ( اے پی پی ): نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت پیر کو یہاں صوبائی کابینہ کا 17واں اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں نئے مالی سال 2023-24کے پہلے 4 ماہ کے ٹیکس فری بجٹ کی منظوری دی گئی ،کابینہ نے پنجاب کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ،ملازمین کو 30 فیصد اضافہ ایڈہاک ریلیف کی مد میں دیا جائے گا ۔اس کے علاوہ 80 برس سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی منظوری پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار و تعلیم کے فروغ کے لئے سے تمام ٹیکسز/ڈیوٹیز ختم کرنے کا فیصلہ اور پنجاب کابینہ نے صوبے میں آئی ٹی انڈسٹریز سے تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز معاف کرنے کی منظوری دے دی ۔پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے 4 ماہ کیلئے 70 ارب روپے مختص ، کابینہ نے اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح 3 فیصد تک بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔تعمیراتی صنعت کے فروغ کیلئے اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح ایک فیصد مقرر کرنے کی منظوری زرعی ترقی اور کاشتکاروں کو ریلیف دینے کیلئے زراعت کے بجٹ کیلئے 47 ارب 60 کروڑ روپے مختص رواں مالی برس زراعت کیلئے 12 ماہ میں 12 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ پنجاب میں نئے مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران 50 فیصد جاری ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کا فیصلہ2017 سے بند پاور پلانٹ کو فنکشنل کرنے کیلئے 16 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
اجلاس میں 4 ماہ کے دوران صحت اور ایجوکیشن کے بجٹ میں 31 فیصد اضافے کی منظوری دی کابینہ نے لاہور نالج پارک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک کے قیام کی منظوری دے دی ۔صحافیوں کے لئے ایک ارب روپے سے انڈومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی گئی ۔
اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مختصر مدت میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرتا ہے۔مصوبے کے عوام کو ریلیف دینے کیلئے 4 ماہ کے لئے 70 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔پنجاب کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہترین بجٹ پیش کرنے پرچیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹری خزانہ اور ان کی ٹیم کو کابینہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے اجلاس میں شرکت کی۔سیکرٹری خزانہ نے نئے مالی سال کے بجٹ کے بارے میں بریفنگ دی۔











