کوئٹہ ؛بلوچستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کیلئے تمام انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مزید فعال کردار ادا کریں،چیف سیکرٹری بلوچستان

11

 کوئٹہ،28 جولائی(اے پی پی): بلوچستان سے پولیو وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے تمام انتظامیہ اور متعلقہ ادارے مزید فعال کردار ادا کریں تاکہ امسال ہی پولیو وائرس کے خاتمے کا ہدف حاصل کیا جاسکے ۔صوبائی حکومت اس سلسلے میں تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب دیگر شراکت دار روں کے تعاون سے وائرس کے مکمل خاتمے میں کامیابی ہوگی۔

 افغانستان میں پولیو وائرس کی موجودگی صوبہ بلوچستان کے لئے ایک چیلنج ہے، ضلعی انتظامیہ چمن، قلعہ عبداللہ اور پیشین کو اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

 ان خیالات کا اظہار چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی نے کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں انسداد پولیو مہم کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

 اجلاس میں سیکرٹری ہیلتھ اسفندیار کاکڑ ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ انعام الحق مندوخیل،کمشنر کوئٹہ ڈویژن سہیل الرحمن بلوچ ،صوبائی کوآرڈی نیٹر ایمرجنسی آپریشن سینٹر سید زاہد شاہ، یونیسف، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔

 اس موقع پر کوآرڈی نیٹر ای او سی نے اجلاس کو مہم سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ بلوچستان بھر میں میں سات روزہ انسداد پولیو مہم یکم اگست بروز منگل سے شروع ہوگی، اس سات روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 25 لاکھ99ہزار کے قریب بچوں کو پولیو سے بچاوکے قطرے پلائے جائیں گے۔

پولیو مہم کے دوران11 ہزار539کے قریب ٹیمیں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر مامور ہونگی پولیو کے حوالے سے پانچ انتہائی ہائی رسک اضلاع (کوئٹہ، پشین، قلعہ عبداللہ، چمن اور مستونگ) اور آٹھ ہائی رسک اضلاع(جعفرآباد، دکی، خضدار،لورالائی، قلعہ سیف اللہ، ژوب، نصیرآباداور شیرانی) پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے۔

اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مختلف چیلنجز اور مسائل کا سامناہے لیکن ان مسائل کا مقابلہ کر کے پولیو سے پاک بلوچستان کا خواب زیادہ دور نہیں اور اس حوالے سے تمام متعلقہ ادارے اور انتظامیہ اپنی حکمت عملی کو مزید بہتر بنائیں تاکہ دور دراز کے تمام بچوں کی ویکسی نیشن یقینی ہوسکے۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے ہونے والی مہمات کے باعث آج بلوچستان میں اس مرض پرممکنہ حد تک قابو پالیا گیا ہے جو کہ بڑی پیشرفت ہے۔

 لوگوں میں اس بارے میں شعور اجاگر کرنے میں دیگر طبقات کے ساتھ علمائے کرام کا کردار نہایت ہی اہم ہے جس کے باعث آج پولیو کیخلاف ہم منظم انداز میں مہم چلا کر اپنے بچوں کو محفوظ بنارہے ہیں،بعدازاں چیف سیکرٹری نے بچے کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کا آغاز کیا ۔