اسلام آباد،29اگست (اے پی پی):پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ورکرز کے زیر اہتمام بلوچستان کے صحافیوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس کے مہمان خصوصی پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی محمد عاصم کھچی تھے۔
ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے محمد عاصم کھچی نے کہا کہ صحافت کا شعبہ ہماری قومی زندگی میں نہایت اہمیت کا حامل ہے، بالخصوص بلوچستان کے صحافیوں کی استعداد کار میں اضافے کے لئے تربیتی ورکشاپ کا اہتمام نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانے اور انہیں درپیش مسائل کے حل کے لئےمل جل کر کاوشیں بروئے کار لائی جانی چاہیئں۔انھوں نے کہا کہ اپنی محرومیوں کو کمزوری نہیں بنانا چاہیے بلکہ اپنے کام کے ذریعے آگے بڑھنا چاہیے۔
محمد عاصم کھچی نے کہا کہ صحافت کا شعبہ قومی یکجہتی کے فروغ میں بہت اہم کردار کا حامل ہے، امید ہے بلوچستان کی صحافیوں کے لئے منعقدہ تربیتی ورکشاپ سے اس مقصد کو مزید تقویت حاصل ہو گی اور بھائی چارے کی فضاء برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ورکشاپ میں شریک بلوچستان کے صحافی پنجاب اور وفاق سے پیار و محبت کا پیغام لے کر جائیں گے اور یہ پیغام ان کی تحریروں کے ذریعے عوام تک پہنچے گا۔ تربیتی ورکشاپ میں پی ایف یو جے ورکرز کے صدر پرویز شوکت نے کہا کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے صحافیوں کو اسلام آباد میں تربیتی ورکشاپ کے بہت کم مواقع میسر آتے ہیں، میرا مقصد ذمہ دارانہ صحافت کو اجاگر کرنا ہے، اس کے علاوہ بلوچستان کے صحافیوں کو وفاق میں دعوت دینا اور ملک کے مختلف علاقوں کے صحافیوں سے تبادلہ خیال کے ذریعے یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے فاصلوں کو دور کرنے کے لئے مستقبل میں ملک بھر کے صحافیوں کے لئے بڑی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔
سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور صحافت کو 76 سال ہو گئے ہیں، بلوچستان کے صحافیوں کو زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ تاریخ کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ سینئر صحافی ظفر محمود شیخ نے بلوچستان کے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ مشکل اور کٹھن کام کر رہے ہیں، وہاں سہولیات کے فقدان کے باوجود صحافی برادری پیشہ ورانہ صلاحیت کی ادائیگی نہایت جانفشانی سے کرتی ہے۔
پی ایف یو جے ورکرز اسلام آباد کے نائب صدر طاہر راٹھور کا کہنا تھا کہ ہمیں صحافت کرتے ہوئے اخلاقیات کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے، ایک متنازع خبر کو دیتے وقت ہمیں دونوں اطراف کا موقف لینا چاہیے۔ پی ایف یو جے ورکرز کی نائب صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال نے کہا کہ بلوچستان کے لوگ بہت صلاحیتوں کے مالک ہیں، وہاں کا صحافی اور شعبہ صحافت کے طالب علم تاریخ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں، وہا ں کا صحافی جانتا ہے کہ احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض اخبارات کے ایڈیٹرز رہے جبکہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور بریکنگ نیوز کی دوڑ نے ہمیں تحقیق سے دور کر دیا ہے۔
سندھ سے تعلق رکھنے والے پی ایف یو جے ورکرز کے نائب صدر عرفان آرائیں کے مطابق میری رائے میں علاقائی صحافت کرنے والا صحافی اسلام آباد کے صحافی سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے اور وہ زیادہ موثر انداز میں کام کر سکتا ہے۔ گوجرانوالہ یونین آف جرنلسٹس کے صدر ملک توصیف کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسی ورکشاپس کا انعقاد کراتے رہنا چاہیے۔
ورکشاپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں غلام حسین، مختار احمد، فیض محمد نچاری، مقبول احمد، ضیاء الرحمن، اسرار احمد، شعیب افضل اور محبوب احمد نے بھی اظہار خیال کیا۔











