کوئٹہ،20 ستمبر (اے پی پی):نگران وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی نے کوئٹہ ایس ایس پی ٹریفک آفس کادورہ کیا،اس موقع پر ایس پی ٹریفک ملک محمد جاوید نے وزیر داخلہ کا استقبال کیا ۔ایس پی ٹریفک ملک محمد جاوید کی وزیر داخلہ کو بریفنگ بھی دی گئی ۔دورہ کے موقع پر ایس پی ٹریفک ملک محمد جاوید، اسٹاف آفیسر عتیق الرحمن ، محمد اعظم آئی ٹی انچارج بھی ہمراہ موجود تھے ۔
آئی ٹی انچارج نے وزیر داخلہ کو سمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، راستہ ایپ ،ای چلاننگ اور روڈ سیفٹی پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر داخلہ کو لائسنسنگ، مانیٹرنگ اور سروس انفراسٹریکچر سمیت متعدد ایشوز پر مفصل بریفنگ دی گئی۔
وزیر داخلہ میر محمد زبیر جمالی نے کہا کہ شہر کوئٹہ میں 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کو رواں دواں رکھنا چیلنج سے کم نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس سروسز کی فراہمی، ایجوکیشن اور انفورسمنٹ اولین ترجیحات ہیں جبکہ سٹی ٹریفک پولیس جدید سہولیات سے آراستہ ہے جبکہ ٹریفک پولیس نے محدود وسائل میں بہترین سروس کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹریفک قوانین پرسختی کرنے سے حادثات میں واضح کمی ہوگی۔
نگران وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی نے ہدایات دی کہ ہیلمنٹ مہم سے 80 فیصد ہیڈ انجری کے حادثا ت میں کمی ہو گی جبکہ ہیلمنٹ انفورسمنٹ مہم اور بغیر لائسنس ڈرائیور کےخلاف کریک ڈاؤن کے واضح مثبت اثرات سامنے آئے گے ۔
اس موقع پر ایس پی ٹریفک نگران وزیر داخلہ کو بتایا کہ ٹریفک ایشوز کے ممکنہ حل کیلئے ٹرانسپورٹرز، سماجی اور تاجر نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں ہیں جبکہ تجاوزات کے خاتمہ کیلئے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے، ٹریفک بہاؤ میں رکاوٹ کی بڑی وجوہات تجاوزات، نامناسب روڈ سڑیکچر، گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر ایس پی ٹریفک نے نگران وزیر داخلہ کو مختلف سوالوں کے جوابات دئیے۔











