نگران صوبائی حکومت صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے؛ وزیراعلی خیبر پختونخوا

18

 

پشاور، 2اکتوبر(اے پی پی):نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے کہا ہے کہ نگران صوبائی حکومت صوبے سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے پر عزم ہے اور حکومت صوبے کو پولیو وائرس سے پاک کرنے کے لئے مربوط اقدامات اٹھا رہی ہے۔

 نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت آج نیشنل ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کا اجلاس منعقد ہوا، جسمیں نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔

 دوران اجلاس خطاب میں  نگران وزیراعلی محمد اعظم خان نے کہا کہ نیشنل ایمیونائزیشن مہم کے تحت صوبے میں آج سے پانچ روزہ انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس مہم کے سو فیصد اہداف حاصل کئے جائیں۔

 محمد اعظم خان نے کہا کہ جون 2022 سے اب تک صوبے میں پولیو سے بچاؤ کے کل 14 مختلف مہم چلائی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں خیبر پختونخوا میں پولیو کے کل 247 کیسز تھے جبکہ سال 2019 میں صوبے میں پولیو کے 93 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس وقت صوبے پولیو کے صرف دو کیسز رہ گئے ہیں، یہ تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کی مشترکہ اور انتھک کوششوں سے ممکن ہوا ہے۔

محمد اعظم خان نے کہا کہ اس سلسلے میں محکمہ صحت،  سول انتظامیہ،  پولیس اور فوج سمیت ڈونر اداروں کا کردار قابل تحسین ہے، صوبائی حکومت پولیو وائرس پر قابو پانے کے سلسلے میں فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مخصوص جغرافیائی حالات کی  وجہ سے پولیو وائرس کے خاتمے میں کچھ مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل پر قابو پانے کے لئے صوبائی حکومت دیگر شراکت داروں کے تعاون سے نتیجہ خیز اقدامات اٹھا رہی ہے۔

نگران وزیراعلی محمد اعظم خان نے کہا کہ افغانستان سے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے کے لئے پانچ بارڈر پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں، پشاور کے انوائرنمنٹل سیمپل میں پولیو وائرس کی موجودگی سنجیدہ مسئلہ ہے جسے ختم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

 نگران وزیراعلی محمد اعظم خان نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پولیو قطروں کے بارے میں بعض لوگوں کے ذہنوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی اشد ضروت ہے، اس سلسلے میں علمائے کرام کا کردار سب سے اہم ہے، اس مقصد کے لئے علماء کے ذریعے لوگوں کو شعور دینے کے سلسلے میں موثر لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔