نگران حکومت تعلیم کے شعبے میں اچھی بنیاد ڈال کر جائیگی، وقت آگیا ہے کہ جامعات سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائے۔ نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی

38

کوئٹہ۔20اکتوبر(اے پی پی): نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سکولوں سے باہر بچوں کی تعداد باقی صوبوں کی نسبت سب سے زیادہ ہے،نگران حکومت تعلیم کے شعبے میں اچھی بنیاد ڈال کر جائیگی، وقت آگیا ہے کہ جامعات سے سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا جائےیہ بات انھوں نے جمعہ کوبیوٹمز یونیورسٹی کویٹہ میں بلوچستان کے جامعات کے وائس چانسلرز سے ملاقات اور تعلیمی بہتری کے لیے ان کی تجاویز/سفارشات کے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر ہائرایجوکیشن کمیشن بلوچستان پروفیسر ظہور احمد بازئی، بیوٹمز یونیورسٹی کویٹہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ،لورالائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر احسان اللہ کاکڑ، مکران یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکڑ مالک ترین، خضدار یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکڑ مقصود احمد، سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی کویٹہ کے وائس چانسلر ڈاکڑ ساجدہ نورین، نگران صوبائی وزیر خزانہ امجد رشید، بولان میڈیکل یونیورسٹی کویٹہ کے رجسٹرار اورنگزیب شاہ اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکڑ مختار احمد، گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جان محمد اور لسبیلہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکڑ دوست محمد بلوچ نےویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔نگران۔وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے کہا کہ بلوچستان کے جامعات کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے کمیٹی بنادی ہے اب ہمیں ماضی کو بلا کر آگے جانا چاہیے اور بات چیت کے ذریعے ہی تمام مسائل کا حل نکالنا چاہیے،انھوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی ہدایت پر بلوچستان کا چار روزہ دورہ کررہا ہوں،کویٹہ آنے کا مقصد ماہرین تعلیم، صوبائی حکومت اور دانشوروں کے ساتھ ملاقاتیں کرکے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے سفارشات مرتب کرنا ہے،سندھ اور بلوچستان کے بعد دیگر صوبوں کا بھی دورہ کرونگا جس کے بعد تعلیم کے شعبے میں درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے متعلقہ اپنی سفارشات پر مبنی رپورٹ صدر مملکت اور نگران وزیراعظم کو پیش کرونگا، انھوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں کوالٹی کے مسائل اور دیگر پر ٹاسک فورس بنائی ہے جس کی سربراہی میں خود کرونگا، نگران حکومت تعلیم کے شعبے میں اچھی بنیاد ڈال کر جائیگی، وائس چانسلرز کے ساتھ آج کی نشست شروعات ہے اور اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائیگا۔ نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی نے کہا کہ بلوچستان کے جامعات کے مسائل کے حل کے لیے وائس چانسلرز کی جلد نگران وزیراعظم سے ملاقات کرائی جائیگی تاکہ فنڈز اور پنشنز سمیت دیگر مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جاسکے، اس موقع پر چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکڑ مختار احمد نے ویڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت جامعات کے کوالٹی اور گورننس کے مسائل بڑے ہیں نہ کہ مالی، بلوچستان کے جامعات کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 223 ملین روپے ایڈیشنل گرانٹ دی ہے۔ نگران صوبائی وزیر خزانہ امجد رشید اور مختلف جامعات کے وائس چانسلرز نے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے اپنی تجاویز و سفارشات، مالی مسائل اور دیگر پر نگران وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی کو آگاہ کیا۔