حکومت کا آئمہ مساجدکیلئے پچیس ہزار روپے کا اعزازیہ محض تحفہ اور امداد ہے، اسے لینے یا نہ لینے کا اختیار ہر عالم دین کا ذاتی فیصلہ ہے، طاہر اشرفی

9

فیصل آباد،  06نومبر (اے پی پی):  چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آئمہ مساجد کو دیا جانے والا پچیس ہزار روپے کا اعزازیہ محض تحفہ اور امداد ہے، اسے لینے یا نہ لینے کا اختیار ہر عالم دین کا ذاتی فیصلہ ہے۔ اور اس معاملے میں کسی قسم کا خوف و ہراس نہیں پھیلایا جارہا۔ آج  بروز جمعرات یہاں علماء و مشائخ کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منبر و محراب کے دفاع کے معاملے میں وہ خود سب سے آگے کھڑے ہوں گے اور مذہبی قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش یا فرقہ وارانہ حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ امام یا ملا کی شخصیت اور ایمان کو پچیس ہزار روپے کی قیمت میں ناپا جانا حماقت ہے اور ایسا سوچنا خود مذہبی روایات اور مذہبی شعور کے لئے توہین آمیز ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی نشاندہی کی کہ ملک کے بہت سے دیہی علاقوں میں مسجدوں کے اماموں کی ماہانہ اجرت دس ہزار روپے کے قریب ہیں، اس تناظر میں حکومت کا دیا گیا اعزازیہ ایک امدادی اقدام ہے۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کی یکم اکتوبر کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اتحاد تنظیمات مدارس کے سولہ بورڈز کو بینکوں اور وزارت تعلیم میں رجسٹر کرایا جا رہا ہے اور انہیں اپنے اکاؤنٹ کھلوانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ اتحاد تنظیمات مدارس کے بڑے تعلیمی اور شرعی بورڈز کے ساتھ اس معاملے میں رابطہ اور تعاون ضروری ہے اور جہاں کہیں کسی بورڈ یا کسی عالم دین کا اکاؤنٹ کھلنے میں دشواری ہو وہ ان سے براہِ راست رابطہ کریں تاکہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ مدارس، امام اور علماء کرام کے ساتھ کوئی لڑائی یا مخاصمت ان کا مسلک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام مذہبی قائدین کی عزت و وقار کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ مدرسوں کے بارے میں پھیلائے جانے والے یہ خدشات بالکل غلط اور بے بنیاد ہیں کہ مدرسے چھین لئے جائیں گے یا سرکاری خطیب نصب کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایسی افواہیں تو گزشتہ تیس سال سے گردش کر رہی ہیں مگر حقیقت میں ایسا کچھ بھی عمل میں نہیں آیا۔افغانستان کے حوالے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ1978 سے ہم افغان بھائیوں کی خدمت کر رہے ہیں اور اس کے بدلے میں خون دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے حامد کرزئی کا دور ہو، اشرف غنی کا دور ہو یا طالبان کا موجودہ دور، افغان تاریخ میں مسلسل نقصانات دیکھنے میں آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان ہمارا بھائی ہے مگر وہاں سے کسی بھی دہشت گردانہ سرگرمی کو پاکستان کی سرزمین پر پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیغامِ پاکستان ملکی بنیادوں کا محافظ ہے اور اس سلسلے میں علمائے کرام، سٹیک ہولڈرز اور مذہبی شخصیات متحد ہیں۔قومی سلامتی اور دفاع کے معاملے پر حافظ طاہر اشرفی نے اعلان کیا کہ جب بھی ملک کو خطرہ محسوس ہوگا،تو پورے ملک کے مدارس کے تقریبا تیس لاکھ طلبہ پاکستان اور پاک افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک ہی جہادی فورس ہے اور وہ پاک فوج ہے،جو لوگ جہاد اور دفاع وطن کا جذبہ رکھتے ہیں ان کے لئے مناسب راستہ فوج میں شمولیت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام اور جہاد کی تعلیمات قرآن و سنت کے مطابق ہی سمجھی اور سکھائی جائیں گی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ اسلام کے نام پر خون خرابہ، فرقہ واریت یا لوگوں کے سر اتار دینا بالکل ناقابل قبول ہے اور اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے  امن کمیٹیوں، علمائے کرام اور مقامی قیادت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ سب مل کر ملک کی طاقت ہیں جنہیں مضبوط کرکے امن و استحکام کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پیغام پاکستان کے تحت اٹھارہ ہزار علما کرام نے مل کر ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے نمایاں علمائے شامل ہیں اور اسی بنیاد پر بننے والی کمیٹیاں نچلی سطح تک فعال کی جائیں گی تاکہ مدارس اور مساجد کے معاملات میں اجتماعی اور ساختی اصلاحات لائی جا سکیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جن مولوی صاحبان کو پہلے اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے چندہ اکٹھا کرنا پڑتا تھا، انہیں حکومت کی جانب سے دیا جانے والا اعزازیہ ایک بڑا تحفہ اور امدادی قدم ہے،اس کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اسے ایک مثبت قدم سمجھا جانا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پچیس ہزار روپے کے اعزازیہ کے بارے میں کسی عالم دین کو کوئی اعتراض یا ابہام ہے تو وہ ان سے رابطہ کر سکتا ہے اور وہ براہ راست خود وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ انتظامیہ سے بات کریں گے تاکہ مسئلے کو باقاعدہ انداز میں اٹھایا اور حل کیا جاسکے۔ ستائیسویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے مختصر طنزیہ انداز میں کہا کہ ابھی وہ معاملہ وقوع پذیر نہیں ہوا، جب وقت آئے گا تو اس کا نام بھی رکھ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مذہب، مساجد اور مدارس کی حرمت کا دفاع ہر حالت میں لازم ہے اور ملک میں اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے کے لئے علمائے کرام اور سٹیک ہولڈرز کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس نوعیت کے معاملات میں احتیاط سے کام لیں۔ بے بنیاد افواہوں یا سازشی پروپگینڈے سے گریز کریں اور اگر کسی قسم کی شکایت یا معلومات ہوں تو انہیں باقاعدہ طور پر متعلقہ حکام تک پہنچائیں تا کہ فوری اور ذمہ دارانہ انداز میں حل ممکن بنایا جا سکے۔