ملتان:پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس تفتیشی افسران کیلئے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا آغاز

14

ملتان 19فروری )اے پی پی ):پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے زیرِ اہتمام پراسیکیوٹرز اور پولیس کے تفتیشی افسران کے لیے تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا آغاز ملتان میں ہو گیا۔

ورکشاپ کے پہلے روز قتل کے مقدمات کی مؤثر تفتیش اور پیروی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی سیشنز منعقد کیے گئے۔ہائی کورٹ ملتان بنچ کے انچارج پراسیکیوشن عبدالودود نے اپنے خطاب میں شرکاء کو بتایا کہ قتل کے مقدمات میں شہادتوں کو سائنسی اور قانونی تقاضوں کے مطابق اکٹھا کرنا انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط پراسیکیوشن کے لیے مضبوط شہادتیں ناگزیر ہیں، اور اس مقصد کے حصول کے لیے پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان قریبی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں تفتیش کے پہلے دن سے ہی پراسیکیوٹرز کیس کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں، جس سے شہادتوں کی تیاری اور قانونی پہلوؤں کو ابتدا ہی سے درست سمت ملتی ہے۔ تاہم پاکستان میں افسران کی کمی کے باعث یہ طریقہ کار مکمل طور پر رائج نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے بعض اوقات مضبوط شہادتیں تیار نہیں ہو پاتیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ آئندہ تربیتی پروگراموں میں ججز کو بھی مدعو کیا جانا چاہیے تاکہ عدلیہ، پراسیکیوشن اور پولیس کے درمیان باہمی روابط مزید مستحکم ہوں، کیونکہ یہ تینوں ادارے کسی بھی مقدمے کے منطقی اور قانونی انجام تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ چوہدری محمد سعید نے اپنے لیکچر میں کہا کہ عدلیہ، پراسیکیوٹرز، پولیس اور وکلاء کی مشترکہ اور دیانتدارانہ کاوشوں سے ہی مظلوم کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر تمام متعلقہ ادارے اپنے فرائض منصبی ایمانداری سے انجام دیں تو مجرم کو قرار واقعی سزا تک پہنچانا ممکن ہے۔

تقریب کے میزبان ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر امتیاز رسول چیمہ تھے، جنہوں نے کہا کہ اس تربیتی ورکشاپ کا مقصد پیشہ ورانہ مہارتوں میں اضافہ اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے تاکہ فوجداری مقدمات کی پیروی کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔

ورکشاپ سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری پراسیکیوشن پنجاب سلمان غنی اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبہ بھر میں اس نوعیت کی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو فوری اور معیاری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پراسیکیوشن سروس کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ آخر میں سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی۔