لاہور، 3 اپریل(اے پی پی): صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین سے پیسک ہاؤس میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ کر رہے تھے جبکہ ملاقات میں انڈسٹری اور صنعتکاروں کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد نے صوبائی وزیر کو سگیاں انڈسٹریل ایریا میں قائم صنعتوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے اس علاقے کو باضابطہ صنعتی درجہ دینے اور روڈا کی جانب سے عائد کنورژن فیس کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ صنعتی یونٹس نے اپنا انفراسٹرکچر خود قائم کیا ہے، لہٰذا بھاری کنورژن فیس عائد کرنا ناانصافی ہے۔
صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین نے صنعتکاروں کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صنعت کاری کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع بڑھانا ان کا عزم ہے اور کسی صورت صنعت کا پہیہ رکنے نہیں دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ صنعتکاروں کے نمائندہ ہیں اور ان کے دفتر کے دروازے 24 گھنٹے صنعتکاروں کے لیے کھلے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگیاں ایریا میں پہلے سے قائم صنعتوں پر کمرشلائزیشن یا کنورژن فیس کے ذریعے دباؤ ڈالنا مناسب نہیں، اس معاملے کو ایوان صنعت و تجارت کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ کنورژن فیس کے مسئلے کا چیمبر کے ساتھ مل کر قابل عمل حل نکالا جائے۔ چوہدری شافع حسین نے کہا کہ سگیاں ایریا میں قائم صنعتی یونٹس نہ صرف معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار کا ذریعہ بھی ہیں۔
اس موقع پر تنویر احمد شیخ نے بتایا کہ اس علاقے میں قائم تقریباً 1500 صنعتی یونٹس سے ڈیڑھ لاکھ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ ملاقات میں سارک چیمبر کے نائب صدر انجم نثار، سابق صدر لاہور چیمبر محمد علی میاں، دیگر عہدیداران اور سگیاں ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی شریک تھے جبکہ سیکرٹری انڈسٹریز عمر مسعود اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔











