کوئٹہ،04 اپریل (اے پی پی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت قومی کفایت شعاری اور عوامی ریلیف اقدامات سے متعلق اہم اجلاس ہفتہ کے روز چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے بڑے فیصلوں کا اعلان کیا گیا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر حکومت بلوچستان نے جامع ریلیف پیکج متعارف کرایا ہے اس سلسلے میں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں گرین اور پنک بس سروس کو عوام کے لیے ایک ماہ تک مکمل طور پر مفت کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو فوری سفری سہولت میسر آ سکے انہوں نے اعلان کیا کہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ٹرانسفر/رجسٹریشن فیس 15 دن کے لیے معاف کر دی گئی ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مدت میں اپنی گاڑیاں اپنے نام پر منتقل کریں تاکہ حکومتی سبسڈی سے فائدہ اٹھایا جا سکے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں تقریباً 80 ہزار پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ رجسٹرڈ ہیں جن میں گڈز ٹرانسپورٹرز کو خصوصی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے وفاقی سطح پر معاونت حاصل کی جا رہی ہے زرعی شعبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گندم کی کاشت کے سیزن کے پیش نظر ساڑھے 12 ایکڑ تک زمین رکھنے والے چھوٹے کسانوں کو کسان کارڈ کے ذریعے تھریشر اخراجات اور سبسڈائزڈ ڈیزل کی مد میں 15 ہزار روپے فراہم کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ آئندہ مرحلے میں موٹرسائیکل اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے بھی سبسڈی دینے پر غور جاری ہے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومت کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہونے دے گی آئل و دیگر مارکیٹس کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو کسی بھی چیک پوسٹ پر نان کسٹم پیڈ سامان روکنے کا اختیار نہیں کیونکہ یہ ذمہ داری کسٹمز حکام کی ہے پولیس صرف امن و امان کے قیام پر توجہ دے گی اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی توانائی بچت اور کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ مارکیٹوں کو رات 8 بجے جبکہ ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کو رات 10 بجے بند کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس پر تاجر برادری سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش آئل کرائسز کے بعد ممکنہ انرجی کرائسز کے خدشات کے پیش نظر یہ اقدامات ناگزیر ہیں انہوں نے عوام پر زور دیا کہ تعطیلات کو پکنک کے بجائے توانائی کے تحفظ کے لیے استعمال کریں وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبے میں کسی قسم کا لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جا رہا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کفایت شعاری مہم کے تحت چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں 50 فیصد عملہ کام کر رہا ہے غیر ضروری اخراجات ختم کر دیے گئے ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس کی اضافی گاڑیوں کو نیلام کر کے ان کی جگہ بتدریج الیکٹرک گاڑیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں انہوں نے بتایا کہ صرف ایک ماہ کے دوران 1.4 ارب روپے سے زائد کی بچت کی گئی ہے جبکہ گزشتہ مالی سال میں مجموعی طور پر 14 ارب روپے کی بچت ممکن بنائی گئی انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت قومی کفایت شعاری مہم کے تحت تین ماہ میں وفاق کو اپنے حصے کے 7 ارب روپے فراہم کر رہی ہے جن میں سے دو ارب روپے سے زائد پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ بلوچستان کابینہ نے دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو آئندہ بھی قومی مفاد میں یہ سلسلہ جاری رکھا جائے گا علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک ایران میں جاری کشیدہ صورتحال اور جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مشکل حالات میں جس انداز سے معاملات کو سنبھال رہی ہے وہ قابل تحسین ہے، تاہم اگر یہ صورتحال طویل ہوئی تو مزید چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان نے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدہ صورتحال میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جس پر ملکی سول و عسکری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے، اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے پریس کانفرنس میں صوبائی وزراء میر ظہور احمد بلیدی، میر ضیاء لانگو، بخت محمد کاکڑ اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی و میڈیا امور شاہد رند بھی موجود تھے۔











