کے ٹو پاکستان اور اٹلی کی دائمی دوستی کی علامت ہے، اطالوی پارلیمنٹ میں باوقار تقریب

6

اسلام آباد، 10 جولائی (اے پی پی ):اطالوی پارلیمنٹ میں “اٹلی اور پاکستان: 125 سالہ تاریخ اور تعاون” کے عنوان سے ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط تاریخی تعلقات اور باہمی تعاون کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ تقریب کا افتتاح اطالوی پارلیمنٹ کے اراکین نے کیا، جبکہ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی  مصدق ملک نے اسلام آباد سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی اور سائنسی تعاون کو سراہا۔

وفاقی وزیر مصدق ملک نے ای وی کے ٹو سی این آر  کی حالیہ تحقیق کا حوالہ دیا، جس کے مطابق پاکستان میں دنیا کے سب سے زیادہ 13,032 گلیشیئرز موجود ہیں، اور انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سائنسی شراکت داری پر زور دیا۔

تقریب میں اٹلی کے ترقیاتی ادارے  کے تعاون سے تیار کردہ کتاب “پاکستان کے 13,032 گلیشیئرز کی نئی فہرست” کی رونمائی بھی کی گئی۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے وادیٔ سوات میں 1955 سے جاری اطالوی آثارِ قدیمہ مشن اور قراقرم کے گلیشیئرز پر ہونے والی جدید سائنسی تحقیق پر تفصیلی مقالے پیش کیے۔

پاکستان کے سفیر نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سفارتی تعلقات 1948 میں قائم ہوئے، لیکن دونوں ممالک کے عوام کا رشتہ 125 سال پرانا ہے، جس کا آغاز 1909 میں اطالوی شہزادے کے دورۂ کے ٹو سے ہوا تھا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1954 میں اطالوی کوہ پیماؤں نے پہلی بار کے ٹو سر کر کے تاریخ رقم کی تھی، اسی لیے اطالوی عوام اسے محبت سے “اطالوی پہاڑ” کہتے ہیں۔ سفیر نے زراعت کے شعبے بالخصوص پاکستان میں زیتون کی کاشت کے فروغ اور حالیہ 2 کروڑ یورو کے زرعی ٹی وی ای ٹی  معاہدے سمیت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے اٹلی کے تعاون کو سراہا۔

 تقریب کے اختتام پر، پاکستان کے لیے طویل المدتی خدمات کے اعتراف میں ای وی کے ٹو سی این آر کے صدر آگوستینو دا پولینزا کو “تمغۂ پاکستان” سے نوازا گیا۔