وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس , معاشی ترقی کے لیے ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ کی منظوری

8

اسلام آباد،10 جولائی  ( اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں ‘ایکسیس ٹو فائنانس’ کے فروغ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک میں پائیدار معاشی ترقی کے سفر کو تیز کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم کو ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ کے ترجیحات اور اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس کا بنیادی مقصد مالی سہولیات کی فراہمی کو وسعت دے کر اسے قومی سطح پر مرکزی دھارے کا حصہ بنانا ہے۔ اس پلان کے تحت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، زراعت، برآمدات، قابلِ تجدید توانائی، ہاؤسنگ اور آئی ٹی شعبوں کے لیے آسان قرضوں اور کریڈٹ تک رسائی بڑھانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پلان پر مؤثر عملدرآمد کے لیے وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل پورے نظام پر مبنی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ اس نئے گورننس اسٹرکچر کی سربراہی وزیرِ خزانہ کریں گے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس کے شریک سربراہ ہوں گے۔ نئے ڈھانچے کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور وزیراعظم کو ہر ماہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس پلان کے تحت اگلے 2 سال کے لیے مختلف شعبوں میں مالی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جن میں بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی رقم اور قرض حاصل کرنے والے کاروباروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔ پلان کے مطابق، نجی شعبے کے قرضوں میں ایس ایم ای سیکٹر کا حصہ 7 فیصد سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ قرضوں سے مستفید افراد کی تعداد کو 3 لاکھ 10 ہزار سے بڑھا کر اگلے دو سال میں 7 لاکھ 50 ہزار کیا جائے گا۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کے لیے مختلف شعبوں کو آسان شرائط پر مالی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ ترجیحی شعبوں، بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر کے لیے قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ آسان شرائط پر مالی سہولیات کی دستیابی سے برآمدات میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوگی، اور مالی سہولیات کی فراہمی میں بہتر کارکردگی دکھانے والے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت مالی سہولیات تک رسائی بڑھا کر معیشت کو مزید مضبوط اور برآمدات پر مبنی بنانا چاہتی ہے، اسی لیے وہ ‘ایکسیس ٹو فائنانس پلان’ پر پیش رفت کے حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی صدارت خود کریں گے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، پاکستانی بینکوں کے صدور و سی ای اوز، صوبائی چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔