لاہور، 11 جولائی (اے پی پی): وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت سول سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے دوران مثالی گاؤں پروگرام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سیکرٹری عملدرآمد وزیراعلی آفس، سپیشل سیکرٹری شاہد زمان لک، ایڈیشنل سیکرٹری مہرین فہیم عباسی، چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی(پی آر ایم ایس سی ) خرم پرویز اور دیگر نے شرکت کی۔وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی نگرانی میں مثالی گاؤں آگے بڑھ رہا ہے۔ انشااللہ جولائی میں مختلف تحصیلوں کے 40 دیہات میں ترقیاتی کام مکمل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی آر ایم ایس سی ٹائم لائن پر عملدرآمد یقینی بنا رہی ہے۔ 31 دسمبر تک پہلے مرحلے میں 485 دیہاتوں کو مثالی گاؤں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ ہر مثالی گاؤں میں تمام ضروری میونسپل خدمات مہیا کی جا رہی ہیں۔ یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ جن دیہات میں کام ہو رہا ہے وہاں کی آبادی کا فیڈبیک بہت اچھا آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی طرف سے مثالی گاؤں پروگرام کیلئے تمام ممکنہ وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ پی آر ایم ایس سی نے اختتام پذیر مالی سال کے فنڈز کا تقریبا 100 فیصد استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر مثالی گاؤں میں گلیاں پختہ کی جائیں گی، سٹریٹ لائٹس نصب ہونگی۔ چلڈرن پارک بننے بچوں کو جھولوں جیسی تفریح میسر آئے گی۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ دیہی آبادی کو شہروں جیسے سہولیات مہیا کرنا ایک منفرد منصوبہ ہے۔ مثالی گاؤں کا دائرہ کار بتدریج وسیع کیا جائے گا۔ اگلے مرحلے میں 7500 دیہات کا انتخاب ہوگا۔











