پنجاب پنشن فنڈ اور پنجاب جنرل پروویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ کی مینجمنٹ کمیٹیوں کے اجلاس،سرمایہ کاری پالیسی اور فنڈز کی کارکردگی سے متعلق اہم امور کی منظوری

4

لاہور، 18 اگست:( اے پی پی )  وزیر خزانہ پنجاب و چیئرمین پنجاب پنشن فنڈ اور پنجاب جنرل پروویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ مینجمنٹ کمیٹی میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن کی زیر صدارت پنجاب پنشن فنڈ کمیٹی کا  53 واں جبکہ  پنجاب جنرل پروویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ  کمیٹی کا 24 واں اجلاس آج سول سیکرٹریٹ دربار ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران سمیت متعلقہ محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی ۔

اجلاس میں پنجاب پنشن فنڈ اور پنجاب جنرل پروویڈنٹ انویسٹمنٹ فنڈ سے متعلق مختلف مالیاتی اور سرمایہ کاری امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو فنڈز کی کارکردگی، سرمایہ کاری کے معاملات اور متعلقہ پالیسی امور پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں انویسٹمنٹ پالیسی کے تحت کارپوریٹ بانڈز، ٹرم فنانس سرٹیفکیٹس اور دیگر قرضہ جاتی ذرائع میں سرمایہ کاری کے معیار کا جائزہ بھی لیا گیا اور متعلقہ ایجنڈا آئٹم کی منظوری دی گئی۔

وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ سرکاری فنڈز کا مؤثر، شفاف اور ذمہ دارانہ انتظام حکومت پنجاب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سرمایہ کاری کے فیصلوں میں مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور رسک مینجمنٹ کے اصولوں کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پنشن اور دیگر سرکاری فنڈز کی سرمایہ کاری کے لیے ایسے مواقع اور ذرائع کو ترجیح دی جانی چاہیے جو محفوظ، شفاف اور پائیدار مالیاتی منافع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فنڈز کے طویل مدتی مفاد کو یقینی بنائیں۔

میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری سے متعلق پالیسی اور معیار کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ بدلتے ہوئے مالیاتی حالات اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق فنڈز کے اثاثوں کا مؤثر انتظام یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب مالیاتی نظم و نسق میں ادارہ جاتی بہتری، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو فروغ دے رہی ہے۔ پنشن فنڈز کا بہتر انتظام نہ صرف موجودہ مالی ذمہ داریوں کی مؤثر تکمیل کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل کے مالیاتی تقاضوں کے لیے بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔