وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر  سے جرمنی کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات

71

اسلام آباد۔14فروری  (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے 2030 تک مقامی اور پائیدار وسائل سے 60 فیصد توانائی کی فراہمی کے حصول اور متبادل اور قابل تجدید توانائی کی پالیسی اور کلین اینڈ گرین پاکستان اقدام کو فروغ دینے کے حکومتی وژن کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے قابل تجدید وسائل سے بجلی کے منصوبے شروع کرنے کیلئے پالیسی فریم ورک پر کام کر رہی ہے، تمام صوبوں میں بائیو فیول اور قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بجلی کی پیداوار کے آزمائشی منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، جرمنی کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطوں سے قابل تجدید توانائی کے شعبہ پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو  یہاں  جرمنی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس کی قیادت جرمنی کی نائب وزیر جوچن فال بارتھ کر رہی تھیں۔ ملاقات میں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے تمام صوبوں میں بائیو فیول اور قابل تجدید توانائی کے وسائل کے بجلی کی پیداوار کے آزمائشی منصوبے شروع کرنے کیلئے جرمن ترقیاتی ادارے (جی آئی زیڈ )کی حوصلہ افزائی کی۔ فریقین نے پاکستان میں قابل تجدید توانائی کے وسائل اور صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں اور اس شعبے میں جرمنی کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔  جرمنی کے وفد نے اگست میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد افغانستان سے جرمن شہریوں کے انخلا میں مدد کرنے پر پاکستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔وفاقی وزیر توانائی  حماد اظہر نے آئیسکو اور میپکو میں سکیڈا سسٹم کے قیام میں جرمن تعاون کی تعریف کی اور جی آئی زیڈ  سے کہا کہ وہ اس کا دائرہ ملک کے دیگر علاقوں تک بڑھائے۔ وفاقی وزیر نے 2030 تک مقامی اور پائیدار وسائل سے 60 فیصد توانائی کی فراہمی کے حصول اور متبادل اور قابل تجدید توانائی کی پالیسی اور کلین اینڈ گرین پاکستان اقدام کو فروغ دینے کے حکومتی وژن کا اعادہ کیا۔ حکومت ایک پالیسی فریم ورک شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس کے تحت غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو ملک کے دور دراز علاقوں میں ان کے اپنے ٹرانسمیشن نیٹ ورک کے ذریعے قابل تجدید وسائل سے بجلی کے منصوبوں کیلئے معاہدوں کیلئے مدعو کیا جائے گا۔   یہ مائیکرو گرڈ ممکنہ منصوبے ہیں جہاں جرمن کمپنیاں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔وفاقی  وزیر نے امید ظاہر کی کہ جرمنی کی حکومت کے ساتھ مسلسل روابط سے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مثبت تبدیلی آئے گی اور پاکستان-جرمن رینیوایبل انرجی فورم کے ذریعے تعاون میں اضافہ ہوگا۔ جرمنی کے وفد میں پاکستان میں جرمنی کے سفیر برن ہارڈ شیلاگیک، بورڈ منیجر جی آئی زیڈ تھرسٹن شیفر اور افغانستان اور پاکستان ہیڈ آف ڈویژن  ہیلمٹ فشر شامل تھے۔ ملاقات میں سیکرٹری پاور سید آصف حیدر شاہ اور سی ای او متبادل توانائی ترقیاتی بورڈ بھی موجود تھے۔