شادی سے پہلے تھیلیسیمیا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ یہ موروثی بیماری بچوں میں منتقل نہ ہو،ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محمد عقیل اشفاق

13

ساہیوال، 12 نومبر(اے پی پی):بچوں کوتھلیسیمیا جیسی موذی  بیماری سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ کیا جائے تاکہ یہ موروثی بیماری بچوں میں منتقل نہ ہو۔ اس ضروری تھلیسیمیا ٹیسٹ کے بارے عوام کوآگہی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ عام شہری اس خطرناک بیماری کے اثرات سے آگاہ ہوں اور اسے بچوں میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔ یہ بات ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز محمد عقیل اشفاق نے علی زیب فاؤنڈیشن کی28ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

 علی زیب فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر سید سعد اللہ شاہد نے بتایا کہ فاؤنڈیشن کا قیام1995میں عمل میں لایا گیا جبکہ ساہیوال آفس 2001میں قائم کیا گیا جہاں اب تک3ہزار سے زائد بچوں کا تھلیسیمیا بیماری سے علاج کیا جا چکا ہے جبکہ روزانہ30سے35بچوں کو علاج کی سروسز فراہم کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن میں جدید بلڈ بنک بھی موجود ہے جہاں ہر مریض کوشیئرنگ پر خون بھی فراہم کی جاتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع ساہیوال میں ڈیڑھ ہزار کے قریب بچوں میں تھلیسیمیا بیماری موجود ہے جنہیں مناسب اور بروقت علاج کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس خطرناک بیماری سے نبردآزما بچوں کی صحت یابی میں علی زیب فاؤنڈیشن کا بھرپور ساتھ دیں۔

تقریب میں تھلیسیمیاکے مریض بچوں نے سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر سینئر جرنلسٹ پیر سید طمطراق شاہ، علی زیب فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر سید سعد اللہ شاہد، ہیماٹالوجسٹ ڈاکٹر مظہر فرید اور میجر حفیظ الرحمن بھی شریک ہوئے۔