گمبٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پانچ مفت انسانی اعضاءکی پیوندکاری کرنے والا ملک کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا ہے

16

سکھر،18فروری(اے پی پی): ضلع خیرپور کے علاقے گمبٹ کے پرسکون قصبے شمالی سندھ میں گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (گمس) قومی طبی منظر نامے پر ایک عالمی معیار کے ادارے کے طور پر ابھر کر سامنے آ چکا ہے،یہ ادارہ انسانی جانیں بچانے والے اعضاءکی پیوند کاری کے لیے صفر لاگت کی ایک اہم پناہ گاہ ہے۔ یہ ادارہ ڈائریکٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کی دور اندیش قیادت میں پاکستان کے اہم اور بہت بڑے اسپتال میں تبدیل ہو گیا ہے جو پانچ بڑے اعضاءگردے، جگر، بون میرو، کارنیا اور پھیپھڑوں کے 100 فیصد مفت ٹرانسپلانٹس کی پیشکش کرتا ہے، یہ سفر 2012 میں شروع ہوا جب GIMS نے اپنی پہلی کارڈیک سرجری کی، جس کے بعد 2015 میں آرتھوپیڈک ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا اور یہ ایک اچھا اضافہ ہوا۔

 ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی کے مطابق پہلی پیش رفت 2016 میں 100فیصد مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کے ساتھ ہوا جلد ہی ایک مفت لیور ٹرانسپلانٹ کا شعبہ شامل ہو گیا، جس نے گمبٹ کو واحد جگہ بنا دیا جہاں مریض بیرون ملک سفر کیے بغیر یا اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں اس طرح کی سہولت حاصل کر سکتے تھے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور حکومت سندھ کے تعاون سے  کو صوبے کے پہلے مکمل طور پر مفت طبی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے،آہستہ آہستہ کئی سنگ میل عبور کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،2018 میں کارنیا ٹرانسپلانٹیشن کا آغاز ہوا۔2019 سے 2021 میں ایک ریپڈ رسپانس یونٹ،ایک گمبٹ ہارٹ سینٹر،اور ایک آئی سی یو متعارف کرایا گیا۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہیماتولوجی، 100فیصدمفت بون میرو ٹرانسپلانٹ یونٹ،اور نیورولوجی کے تحت ایک لیزرتھراپی سینٹربھی قائم کیا گیا ہے۔ 2022 میں پیپلز پارٹی کی فنڈنگ سے جدید ترین نیوکلیئر میڈیسن کینسر کیئر اینڈ ریسرچ سنٹر کا بھی باقاعدہ آغاز کیا گیا، 2023 میں گمس خیرپور میں پھیپھڑوں کے کینسر اور ٹرانسپلانٹ کی سہولتیں بھی بلکل مفت میسر کی گئیں۔

ڈاکٹر رحیم بخش بھٹی نے کہا کہ 2024 تک انسٹی ٹیوٹ نے 1,000 سے زائد مفت لیور ٹرانسپلانٹس کیے ہیں اور 100 مفت بون میرو ٹرانسپلانٹس کو عبور کیا ہے، جس سے اس کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی اور اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ گمس ہی وہ واحد پاکستانی ادارہ ہے جو پانچ اعضاء کی مفت پیوند کاری کی خدمات پیش کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گمس نے 1,362 سے زیادہ مفت لیور ٹرانسپلانٹس سرانجام دے کر ایک تاریخ رقم کردی ہے جس کی مثال نہیں،یہاں مریضوں کی آبادی نمایاں طور پر متنوع ہے جس میں 47فیصد کا تعلق سندھ سے ہے، 34فیصد کا تعلق پنجاب سے ہے، 15فیصد بلوچستان سے،خیبر پختونخوا سے 4 فیصد اور ایک چھوٹا حصہ آزاد کشمیر، اسلام آباد سے ہے اور یہاں تک کہ پڑوسی ملک افغانستان سے بھی مریض مفت علاج کروانے کیلئے گمس آتے ہیں۔

گمس انسانی ہمدردی، مفت علاج، صحت کی اچھی دیکھ بھال کے ایک مینار کے طور پر دنیا کے سامنے آیا ہے جہاں جدید ترین طبی خدمات بغیر کسی قیمت اور نسل کے فراہم کی جارہی ہیں،یہ ادارہ سہولیات سے محروم کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور پاکستان میں صحت عامہ کے لیے ایک قومی اور معیاری ادارہ بن چکا ہے۔