گھوٹکی، 18 دسمبر (اے پی پی ):اوباڑو میں نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ(این سی ایچ ڈی ) بیسک ایجوکیشن ای کمیونٹی ( بی ای سی ایس ) کے تحت ملازمت کرنے والے اساتذاہ نے نیشنل پریس کے باہر ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اساتذاہ سعید احمد چاچڑ، کریم بخش سومرو، استاد محمد شعبان چوہان، استاد محمد اسماعیل چانڈیو، وزیر احمد، شمیم اختر ، عشرت جبین نے کہ بتایا سیکریٹری سندھ محکمہ تعلیم کی جانب سے ایم او یو جاری کیا گیا ہے جس کے تحت ملازمین سے انکے حق سلیب کرنے پالیسی بنائی جا رہی ہے جس کے تحت اساتذاہ کو 60 سال کی بجائے 55 سال کی عمر میں ریٹائر کر کے بغیر مراعات دیئے ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔
مظاہرین نے کہا کہ ایم او یو کو فوری طور پر ختم کرکے این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس کے تحت ملازمت کرنے والے اساتذاہ کو سندھ سروس ایکٹ کے تحت مستقل کر کے انکے پرائمری اساتذہ کے برابر اسکیل دیا جائے اور تنخواہیں گورنمنٹ رولز کے تحت سروس بک اور پرنسل آئی ڈیز کے ذریعے فراہم کی جائے تاکہ ہر ماہ اساتذہ کو تنخواہ بروقت مل سکے اور ریٹائرمنٹ پر سرکاری پالیسی کے مطابق پینشن فراہم کی جائے تاکہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی بہتر طریقے سے گزار سکیں جبکہ این سی ایچ ڈی اور بی ای سی ایس کے تحت کام کرنے والے اساتذاہ کو حکومت سندھ کی جانب سے 9 ماہ سے تنخواہیں فراہم نہیں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انکے مطالبات فوری طور پر تسلیم نا کئے گئے تو کراچی سیکریٹری تعلیم کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔











