قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کے وفاقی بجٹ پربحث جاری ، مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین کا زراعت کے شعبہ کیلئے مزید مراعات دینے کی ضرورت پر زور

22

اسلام آباد،17جون  (اے پی پی):قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کے وفاقی بجٹ پربحث ہفتہ کوبھی جاری رہی، مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے زراعت کے شعبہ کیلئے مزید مراعات  دینے کی ضرورت پرزوردیا، ارکان نے زرعی پیداوار، مینوفیکچرنگ اورسستی وماحول دوست توانائی کیلئے اقدامات کی تجاویز بھی دیں، کئی ارکان نے کم ترقی یافتہ اورپسماندہ علاقوں کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کا  بھی مطالبہ کیا۔

پی پی پی کے ذوالفقارعلی بھین نے  بحث کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ بجٹ کسان دوست ہے، گزشتہ سال سندھ میں گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا گیا جس سے ملک میں گندم کی پیدواربھی بڑھ گئی،ہمیں خوشی ہوتی کہ اس بجٹ میں آبادگاروں کی مشاورت شامل ہوتی۔ انہوں نے کہاکہ یوریا پرسبسڈی کیلئے ٹوکن کاطریقہ کارختم کیا جائے، بیجوں کیلئے تحقیقی اداروں کی کارگردگی کوبہتربنایا جائے، ملک میں ماحولیاتی لحاظ سے موزوں بیجوں کی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے اقدامات کئے جا ئیں ۔آربی اوڈی کیلئے کافی سالوں سے فنڈز مختص نہیں کئے گئے، اس سال کے بجٹ میں بھی کوئی فنڈز نہیں ہیں ۔ ڈرپ اورسولر ٹیوب ویلز کو الگ کیا جائے، بائیوگیس پرکام کیا جائے، بائیوگیس پلانٹس کیلئے منصوبہ بندی کی جائے۔انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اچھا ہے مگر مزدوروں اورمزارعین کیلئے بھی اقدامات کئے جا ئیں ۔

محسن داوڑ نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ  75 سالوں سے دائروں کاسفرجاری ہے، جب تک ملک میں سیاسی استحکام  نہیں ہو گااورآئین وقانون کے مطابق نہیں چلیں گے تو ہماری  معیشت درست نہیں ہوگی،ملک میں قانون کوآوازوں کودبانے کیلئے استعمال کیا جارہاہے۔انہوں نے کہاکہ میثاق معیشت پربات ہورہی ہے مگر اس حوالہ سے بات چیت اس وقت مفید ہوگی جب ملک میں قانون کی حکمرانی  اورسیاسی استحکام ہوگا۔ہمارے علاقوں میں   امن وامان کی صورتحال خراب ہورہی ہے اس کا نوٹس لینا ضروری ہے، شمالی وزیرستان میں معاوضہ جات کی ادائیگی کا عمل مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سابق فاٹا میں ٹیکس چھوٹ کافائدہ تب ہوگا جب وہاں امن وامان کی صورتحال اچھی ہوگی، اسی طرح سابق فاٹا کو سی پیک  روٹ سے منسلک کیا جائے۔

پی ٹی آئی کے سردارریاض محمود خان مزاری نے کہاکہ بجٹ پربحث میں سیاسی تقریروں کاحصہ کارروائی سے حذف کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ میں تحصیل روجھان کیلئے کوئی منصوبہ نہیں ہے، ہمارا علاقہ پسماندہ ہے، ہمارے علاقے میں ایک پل ہے جس کیلئے رابطہ سڑک نہیں ہے، اس منصوبہ کیلئے فنڈز مختص کئےجا ئیں ۔پورے تحصیل میں گرلزکالج نہیں ہے، کئی یوسیز ایسی ہیں جہاں پرائمری سکول بھی نہیں ہے اورالزامات لگائے جاتے ہیں کہ سردار سکول کھولنے نہیں دیتے، ہمارامطالبہ ہے کہ تعلیم کیلئے خصوصی فنڈزمختص کئے جا ئیں  ۔

شاہدہ اخترعلی نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئیگا معاشی استحکام ممکن نہیں، 9مئی کاواقعہ افسوسناک ہے، اس سے ملک کاسیاسی نظام عدم استحکام کا شکارہواہے، ان واقعات میں ملوث افراد کو کڑی سے کڑی سزائیں دی جا ئیں ۔انہوں نے کہاکہ 9 مئی کو کوئی سوموٹوآتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ ترازو کے پلڑے برابرہیں۔انہوں نے کہاکہ تعلیم اورصحت میں پاکستان پڑوسی ممالک سے پیچھے  ہے ، قدرتی آفات، کوویڈ اورسیلابوں سے 30 ملین لوگ متاثرہوئے ہیں، 1.6 ملین ایسی خواتین تھیں جو حمل کے عمل سے گزررہی تھیں ، کم ازکم بنیادی صحت کی ضروریات ہرجگہ ملنی چاہئیے۔23 کروڑ کی آبادی میں سوا دولاکھ افراد ایچ آئی وی کاشکار ہیں  جس میں 55ہزار رجسٹرڈ ہیں، اس بیماری سے منسلک نام نہاد کلنک کی وجہ سے لوگ ایسے چھپاتے ہیں، اس حوالہ سے عوام میں آگہی وشعورپھیلانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ موٹروے پولیس کوباقی فورسز کی طرح شہدا ء پیکج دیا جائے، ملک میں نعمت اوروسائل کی کمی نہیں مگر ہماری پالیسیوں میں تسلسل نہیں ہے، ہمیں مینوفیکچرنگ کی طرف جانا ہوگا، زراعت کوترقی دینا ہوگی اورسستی وماحول دوست توانائی پرکام کرنا ہوگا، تاپی گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں پرعمل درآمد کرنا ہوگا۔آئی ٹی سے کافی زرمبادلہ آسکتاہے، اس بار بجٹ میں فری لانسرزکیلئے مراعات خوش آئند اورقابل تعریف ہیں۔این ڈی ایم اے کیلئے زیادہ فنڈز مختص کرنا چاہئیے۔

ڈاکٹردرشن نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ موجودہ حالات میں اس سے بہتراورمتوازن بجٹ پیش نہیں ہوسکتاتھا جس پروہ وزیراعظم اوروزیرخزانہ کو مبارکباد دیتے ہیں۔ وزیراعظم اوراتحادی جماعتوں نے  ریاست کو بچانے کیلئے سیاست کی پرواہ نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف نے ہمت، جرات اوربہادری سے حالات کامقابلہ کیا اورانشااللہ وہ واپس آکر چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، انہوں نے اپنا معاملہ اللہ پرچھوڑ دیاتھا اوراللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 9 مئی کو جو کچھ ملک میں ہوا دشمن بھی اس کی جرات نہیں کرسکتا، ہم ان واقعات کی مذمت کرتے ہیں اوران واقعات میں ملوث افراد کوقانون کے مطابق سزائیں دینی چاہئیے۔انہوں نے اپنے حلقہ میں گیس اوربجلی کے مسائل کوحل کرنے اوراقلیتوں کیلئے 5 فیصدکوٹہ کے اطلاق کامطالبہ کیا۔وزارت مذہبی امورمیں اقلیتوں کے فنڈز کولیپس ایبل کردیا گیاہے، ان فنڈز کودوبارہ نان لیپس ایبل کیا جائے۔

پی پی پی کے سکندرعلی راہوپوتو نے کہاکہ حکومت نے متوازن بجٹ دیا ہے، گیس پیٹرول اورڈیزل روزمرہ استعمال کی چیزیں ہیں، ان کوسستی کرنے سے سب کوفائدہ پہنچے گا، بجٹ میں ہمارے ضلع میں کوئی میگا منصوبہ نہیں ہے، بجلی اورگیس میں مزید سبسڈی دی جائے۔میری تجویز ہے کہ زرعی علاقوں میں زرعی فیڈرز دئیے جا ئیں  ۔آٹا،گھی، دالوں اورخوردنی تیل پرسبسڈی میں اضافہ کیا جائے،لیپ ٹاپ سکیم میں سندھ کو حصہ دیا جائے۔سیہون جام شوروروڈ کا افتتاح ہواہے جس میں 7 ارب سندھ حکومت نے دئیے ہیں، وفاق اس منصوبہ کیلئے فنڈز فراہم کرے۔انہوں نے عراق کیلئے ویزہ فری سہولت پروزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کومبارکباد دی۔

جی ڈی اے کی سائرہ  بانو نے بجٹ پربحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ منی بجٹ کے بعد یہ تیسرا بجٹ ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اچھا اقدام ہے، نجی شعبہ کے ملازمین کا کون سوچے  گا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں آئی ایم ایف کا بجٹ نہیں چاہئیے، پاکستان کے عوام ہرچیز پرٹیکس دے رہے ہیں، تعلیم زیادہ ترنجی شعبہ کے پاس چلاگیاہے، ہمیں بیوروکریسی سے جان چھڑانا چاہئیے کیونکہ سیاستدان مفت میں بدنام ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مری ہوئی مرغیاں، جعلی ادویات اورزہریلی سپرے والی سبزیوں کاتدارک کرنا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ اداروں میں اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔بی آئی ایس پی کیلئے 400 ارب روپے کے فنڈز اچھی بات ہے مگر ہمیں لوگوں بالخصوص خواتین کوہنر فراہم کرنے پرتوجہ مرکوزکرنا چاہئیے۔ملک کے سمت کو درست کیا جائے کیونکہ یہ ملک ہماراہے۔

مسلم لیگ ق کی رکن فرح خان نے کہا کہ ان حالات میں اچھا بجٹ پیش کیا گیا اس پر وزیر اعظم،وزیر خزانہ سمیت اقتصادی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے،روس سے سستے تیل کے جہاز آنے شروع ہوگئے ہیں،ہرکام میں منفی تنقید نہ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو شہداء کی یادگاروں پر حملہ کرنے والے کون تھے،بھائی کو بھائی سے اور قوم کو قوم سے لڑا دیا گیا۔پیپلز پارٹی کے رکن نعمان اسلام شیخ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیاستدانوں نے قوم کو آگے لے چلنے کا سوچاہی نہیں،2008 میں ہم نے اختیارات صوبوں کو منتقل کئے،اٹھارویں ترمیم منظور کرائی۔ہم نے جمہوریت کاساتھ دیا،ہم پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے ہوئے،ہم عوام کا سوچتے تھے۔پی ٹی آئی نے جب دھرنا دیا،ریڈیو پر حملہ کیا تب اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی کارروائی نہیں ہوئی تو وہ اقتدار میں آیا اور سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالا۔

جیمز اقبال نے کہا کہ انتہائی مشکل صورتحال میں اچھا بجٹ پیش کیا ہے،اس پر حکومت مبارکباد کی مستحق ہے،گزشتہ حکومت کے دور  میں اس ایوان میں گالم گلوچ کا کلچر پروان چڑھایاگیا۔میں نے اس ایوان میں سولہ بل پیش کئے۔اس ایوان میں اپنا حق ادا کیا ہے مسلم لیگ ن کی رکن شکیلہ لقمان نے کہا کہ وہ بدترین اقتصادی حالات میں بھی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،ملازمین کو ریلیف دیا گیا ہے،ہماری حکومت نے ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے،معیشت میں بہتری لائی ہے۔