لاہور، 27اگست(اے پی پی ): نگران وفاقی وزیر انسانی حقوق خلیل جارج نے کہا ہے کہ وزارت انسانی حقوق ملک بھر میں بحالی ( ریحبیلیٹیشن) سنٹرز قائم کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے،بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کیلئے جو ہو سکا کریں گے،قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز یہاں جنرل ہسپتال میں زیر علاج تشدد کا شکاررضوانہ نامی بچی کی عیادت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہو ئے کیا۔ نگران وفاقی وزیر انسانی حقوق خلیل جارج نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق بہت بڑی منسٹری ہے اور یہ تمام انسانوں سے متعلق وزارت ہے ،میری کوشش ہے کہ اپنے قلیل دورانیہ میں انسانوں کو ان کے حقوق دلانے کیلئے جدوجہد کروں اور ان سے اظہار محبت کروں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رضوانہ کے والدین غریب ضرور ہیں لیکن غیور لوگ ہیں پیسہ ان کے انصاف میں آڑے نہیں آ سکتا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ کیس سے پیچھے ہٹنے کیلئے رضوانہ کے والدین کو پیسے کا لالچ بھی دیا جائے گا لیکن میںانکے اندر ایک ایسا جذبہ دیکھ رہا ہو ں کہ وہ انصاف چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رضوانہ پر تشد د کے ذمہ داروں کو پاکستان کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی کیونکہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں،جو بھی کوئی گناہ کرتا ہے اس کو اس گناہ کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت رضوانہ کے والدین کے ساتھ کھڑی ہے اگر ان پر کوئی دبائو ڈالتا ہے تو یہ حکومت کو بتائیں انہیں کسی کا پریشر لینے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز بچی کے علاج معالجہ میںکوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے اور ان کی رہائش کا بھی بندوبست کیا جا رہا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کی تمام یونیورسٹیو ں کے وائس چانسلر گورنر پنجاب ہیں وہ یونیورسٹیوں سے متعلق معاملات کو بہتر جانتے ہیں، البتہ اگر کچھ لوگ اپنے طور پر انڈر گرائونڈ کام کر لیتے ہیں تو ریاست اپنے طور پرسٹینڈ لیتی ہے۔











