لاہور، 13 فروری ( اے پی پی ) وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں جاری انڈس اے آئی ویک (9 تا 15 فروری 2026) کے سلسلے میں، نیشنل انکیوبیشن سینٹر لاہور نے گوگل کمیونٹی کے اشتراک سے ایک لائیو اے آئی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کی قیادت گوگل کے ماہر مشہود رستگار نے کی۔”ماسٹرنگ ایڈوانسڈ کانٹیکسٹ انجینئرنگ فار یور اے آئی ڈرِون کوڈنگ” کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ میں گوگل جیمنائی ٹولز اور ایجنٹک کوڈنگ ورک فلو استعمال کرتے ہوئے اے آئی معاونت سے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کی جدید تکنیکوں پر روشنی ڈالی گئی۔
ورکشاپ میں 150 سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروائی اور شرکاء نے آن لائن شرکت بھی کی،جو پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان اور صنعت و تعلیمی اداروں کی دلچسپی کا عکاس ہے۔ساٹھ منٹ کے عملی تربیتی سیشن کے دوران شرکاء کو جدید اے آئی ڈویلپمنٹ طریقہ کار، کانٹیکسٹ انجینئرنگ، منظم اے آئی ورک فلو اور جیمنائی سی ایل ایل کے ذریعے ابھرتے ہوئے ایجنٹک کوڈنگ ماڈلز سے آگاہ کیا گیا۔
سیشن میں عملی اطلاق پر زور دیا گیا تاکہ ڈویلپرز، اسٹارٹ اپ بانیوں، محققین اور طلبہ حقیقی سافٹ ویئر انجینئرنگ میں اے آئی کے مؤثر استعمال کو سمجھ سکیں۔سیمینار میں انڈس اے آئی ویک کے انعقاد پر وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ کی قیادت کو سراہا گیا۔
شرکاء نے کہا کہ پاکستان کو مصنوعی ذہانت، جدت اور ڈیجیٹل تبدیلی کا علاقائی مرکز بنانے کے لیے ان کا وژن حکومتی اداروں، صنعت، جامعات اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو ایک پلیٹ فارم پر لا رہا ہے، جو ملکی معیشتِ علم کے فروغ اور مستقبل کی افرادی قوت کی تیاری کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ماہرین نے کہا کہ کانٹیکسٹ انجینئرنگ اے آئی ایپلی کیشنز کو زیادہ مؤثر اور درست بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، جبکہ گوگل جیمنی جیسے جدید ماڈلز تحقیق، صحافت، کاروبار اور تعلیمی شعبوں سمیت ہر شعبہ زندگی میں نئی راہیں کھول رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر شرکا نے سوال و جواب کے سیشن میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور اس نوعیت کی مزید تکنیکی نشستوں کے انعقاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔











