ڈیرہ غازی خان ،7 نومبر( اے پی پی ): خاتون صوبائی محتسب پنجاب نبیلہ حاکم خان نے کہا ہے کہ اسلام نے ہر خاتون کو وراثت کا حق دیا ہے تاہم بدقسمتی سے خواتین فیملی دباوکی وجہ سے اپنی آواز نہیں اٹھاتیں۔ آج کی عورت پروقار اور مضبوط ہونے کے ساتھ اپنے حق کیلئے آواز اٹھا رہی ہے، مئی 2021ءسے ابتک وراثتی جائیداد سے متعلق 3000سے زائد درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریجنل آفس ڈیرہ غازیخان میں مقدمات کی سماعت کے دوران کیا۔
اس موقع پر کنسلٹنٹ صوبائی محتسب پنجاب اکرم بھٹی، پی ایس حافظ فاروق انور اور ریجنل لاءآفیسر ملک ذیشان ان کے ہمراہ تھے۔نبیلہ حاکم خان نے کہا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں تیس سے چالیس درخواستوں پر خواتین کو پراپرٹی رائٹس مل چکے ہیں جو بڑی کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی عدالت سے جاری ہونے والے فیصلوں پر عملدرآمد کرانا متعلقہ ڈپٹی کمشنرز اور دیگر متعلقہ افسران کی ذمّہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ خاتون محتسب کا دفتر وراثتی حقوق کی فراہمی اور جائے ملازمت پر ہراسانی سے تحفظ کیلئے کام کر رہاہے، صوبائی دفتر کے علاوہ تمام ریجنز میں دفاتر میں قائم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جائیداد کے استحصال کی صورت میں خاتون محتسب کو دی جانے والی درخواست پرفوری کارروائی کرتے ہوئے ساٹھ دن کے اندر فیصلہ کیا جائے جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے ذریعے وراثتی جائیداد کا قبضہ، مارکیٹ ریٹ پر قبضہ شدہ جائیدار کے کرایہ کی ادائیگی اور حکم عدولی کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔











